Friday, December 4, 2009

“Prime Ministers of India” helped re-uniting two Mughal’s families after 150 years

NEW DELHI, December 4: India’s all Prime Ministers including Dr. Manmohan Singh would in a way helped in reuniting two families of the Mughal dynasty living in India and Pakistan almost after one-and-half century. Mughals had ruled Indian subcontinent for more than 300 years and lasted in 1862 when the last lineage of Mughal emperors Bahadur Shah Zafar died in Ragoon at the age of 87.

The recently published 444-page hard bound pictorial coffee-table book “Prime Ministers of India:Bharat Bhagya Vidhata-1947-2009”, to rehabilitate Sultana Begum, the surviving kin of Bahadur Shah Zafar, became instrumental in re-uniting the two families living in two countries.

Compiled and edited by a senior journalist Shivnath Jha and his educationist wife Neena Jha, the book will be handed over to Prime Minister Dr. Manmohan Singh likely.

“I got an email from Badar-Uz-Zaman, 75, who lives at Muhammadi Park (Sanda Khurd) in Lahore in Pakistan after a story about the book and Sultana Begum was aired and published by the BBC. He is fifth generation of Bahadur Shah Zafar. I sent all details about Begum. Later he talked with her over phone and expressed his desire to visit India to see her before he takes his last breath,” said Jha.

Bahadur Shah Zafar, was born in 1775 at Delhi and placed on the throne in 1837. He was last in the lineage of Mughal emperors. During Zafar’s emperorship the first War of Independence (1857 mutiny) was fought. Zafar was the Commander-in-Chief in the fight against the British. He was exiled to Rangoon (now known as Yangon in present day Myanmar) in 1858 where he lived his last five years and died in 1862 at the age of 87.

“Only this could have been a way to express our humble tribute to Bahadur Shah Zafar –a prominent architect of India’s destiny - and promote secular philosophy of Shehnai maestro Bharat Ratna late Ustad Bismillah Khan,” the duo said.

Monday, July 20, 2009

مُغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری کی پیشکش

مُغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری کی پیشکش
مُغل شہنشاہ بہاد رشاہ ظفر کی خدمات کو پورے برصغیر میں سراہا جاتا ہے اور ان خدمات کے صلہ میں بھارتی حکومت نے اُن کی غریب پڑپوتی کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے
احمد نُور
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی پانچویں نسل سے تعلق رکھنے والی اُن کی بہو اور پڑپوتی بھارتی صوبہ مغربی بنگال کی ایک کچی بستی میں غربت کی زندگی بسر کر رہی ہیں اور اپناپیٹ بھرنے کے لیے دونوں ماں بیٹی مل کر چائے کا کھوکھا چلا تی ہیں۔ تاہم بھارتی سرکار نے مغل بادشاہ کے خاندان کو غربت کی زندگی سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سلطانہ بیگم بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی بیوی ہیں جبکہ مادھو بیگم اُن کی بیٹی ہیں۔ محمد بیدار بخت کے والد کا نام جمشید بخت تھا اور دادا کا نام جوان بخت تھا۔ جوان بخت بہادر شاہ ظفر کے بیٹے تھے۔
1857ء میں انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی پہلی جنگ آزادی میں بہادر شاہ ظفر کے کردار کو پورے برصغیر میں آج تک سراہا جاتا ہے اور اُنہیں برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کے خلاف آخری مزاحمت خیال کیا جاتا ہے۔
یاد رہے مغل شہنشاہ کی پڑپوتی کو نوکری ملنے کا سبب بھارتی صحافی شیوناتھ جھاءہیں جنہوں نے بھارتی اخبارات میں اس مسئلہ کو اُجاگر کیا تاکہ مغلیہ خاندان کی مدد ہو سکے اور اس سے قبل اُنہی کی کوشش سے کلاسیکل موسیقار اُستاد بسم اللہ خان کی فلاح و بہبود کے لیے بھارتی حکومت نے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا۔
ہفت روزہ ”ہم شہری“ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شیو ناتھ جھاءنے بتایا کہ اُنہوں نے اس کام کا بیڑا جنگ آزادی کے اُس بھولے بسرے ہیرو (بہادر شاہ ظفر) کے پسماندگان کی فلاح کے لیے اُٹھایا ہے جس ’ہیرو‘ نے بھارت کے وقار کے لیے انگریزوں کے ساتھ جنگ کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہندوستانی فوج بہادر شاہ ظفر کو ”آزادی کی علامت“ سمجھتی تھی اور اُنہیں فوج کے سربراہ (Commander-in-Chief) کے طور پر چنا گیا تھا۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے ”محمد بیدار بخت 1980ء میں بھارتی صوبے مغربی بنگال کے ضلع ہواڑہ میں وفات پا گئے تھے اور سلطانہ بیگم گزشتہ تیس برس سے کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی تھیں اور کوئی بھی اُن کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا تھا۔“ اُن کا کہنا تھا کہ سلطانہ بیگم کے خاوند کی وفات کے وقت اُن کی عمر تیس برس تھی اور اُن کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ مغربی بنگال کی حکومت نے سلطانہ بیگم کو رہنے کے لیے اےک فلیٹ دیا لیکن قبضہ گروپ نے اُنہیں ہراساں کیا اور وہ گھر اُن سے چھین لیا، اس کے بعد سلطانہ بیگم مجبوراً اپنی پانچ بیٹےوں کو لے کر مغربی بنگال کے ضلع ہواڑہ چلی آئیں جہاں وہ ہندو اکثریت والی انتہائی غریب بستی کے اےک 8x8 کے کمرے میں رہائش پذیر ہیں اور اس چھوٹے سے کمرے میں اُنہوں نے بہادر شاہ ظفر کی تصویر آویزاں کر رکھی ہے۔ انڈین صحافی کا کہنا تھا کہ اُنہیں شروع میں غیر مصدقہ ذرائع سے خبر ملی تھی کہ سلطانہ بیگم دریا کنارے اےک غریب بستی (slum) میں رہائش پذیر ہیں اور وہ اس بستی سے چودہ کلومیٹر دور چائے کا کھوکھا چلاتی ہیں۔ لیکن جب اُنہوں نے خود جا کر دیکھا تو اس بات کو سچ پایا کہ آخری مغل بادشاہ کے خاندان کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور اُن کی گزر بسر کا واحد ذریعہ چائے کا ایک سٹال ہی ہے۔
سلطانہ بیگم کی پانچ بیٹیوںمیں سے چار شادی شدہ ہیں جبکہ33 سالہ مادھو بیگم ابھی غیر شادی شدہ ہے اور وہ چھ جماعتیں پاس ہے۔ شیو ناتھ کے بقول سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ اُن کی باقی بیٹیاں بھی غربت کی زندگی گزار رہی ہیں ۔ دوبیٹیوں کے خاوندکوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں اور دو کے شوہر ٹیکسی چلاتے ہیں۔
ہندوستانی سرکاری ادارے کول انڈیا لمیٹڈ(سی آئی ایل)نے بہادر شاہ ظفر کی غریب پڑپوتی کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے انڈیا کول اگلے ماہ اےک خصوصی تقریب منعقد کروا رہی ہے جس میں وزیر کوئلہ شری پرکاش جیسوال باقاعدہ نوکری کا لیٹربہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کے حوالے کریں گے۔ یکم جولائی کو نوکری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کول انڈیا کے چیئرمین پرتھا بھٹاچاریا نے کہا ”کول انڈیا کی طرف سے مادھو بیگم کو نوکری کی پیشکش کرتے ہوئے اُنہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ سب آخری مغل بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جنہوں نے پہلی جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے ہم ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کے اہل خانہ کی خدمت کریں۔“
بھارتی ٹیلیوژن ”زی نیوز“ کے مطابق مادھو بیگم نے کہا کہ ”میرے پاس خوشی کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ نوکری نہ صرف مجھ جیسی عورت کو آگے بڑھنے کی قوت دے گی بلکہ اس سے میرے خاندان کا بھی بھلا ہو گا۔“ بھارت کے اےک صنعتکار مادھو سدھن اگروال نے بھی مادھو بیگم کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
مغل خاندان کا آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر 1775ء میں دہلی میں پیدا ہوا۔ وہ اکبر شاہ کا بیٹا تھا۔ اس کی ماں کا نام لال بائی تھا جو کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ بہادر شاہ ظفر کی چار بیویوں میں سے بائیس بیٹے اور بتیس بیٹیاں تھیں۔ بہادر شاہ ظفر نے جب اپنی عمر کی چھٹی دہائی میں قدم رکھا تو اپنے باپ کی موت کے نتیجے میں 1837ءمیں تخت نشین ہوا۔ بہادر شاہ ظفر مغل خاندان، جو کہ گزشتہ تین صدیوں سے حکومت کر رہا تھا، کا آخری اور اپنے بزرگوں کی طرح ایک کمزور اور بے اختیار بادشاہ ثابت ہوا۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے شعر میں کچھ یوں کیا ہے:
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
یہ وہ دور تھا کہ جب انگریز سرکار مضبوط ہو رہی تھی اور مغلوں کی حکومت روبہ زوال تھی۔ یہ مغلوں کی حکومت کا وہ پرآشوب زمانہ تھا کہ جب ان کے اختیارات اور مراعات تقریباً ختم ہو چکی تھیں اور بات یہاں تک آن پہنچی تھی کہ خود بادشاہ صرف لال قلعے کی چاردیواری تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی زندگی کا انحصار انگریز سرکار کی طرف سے مقرر کیے گئے وظیفے پر تھا کیونکہ اختیارات کا منبع اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی بن چکی تھی۔
بہادر شاہ ظفر کا دور حکومت اردو شاعری کا تابناک دور تھا کیونکہ وہ خود نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کا شاعر تھا بلکہ ایک عمدہ خطاط بھی تھا۔ شاعری اس کو ورثے میں اپنے باپ اور دادا سے ملی تھی جس کا سب سے بڑا ثبوت اس کے چار دیوان ہیں۔اس کے دربار میں شاعروں کی ایک کثیر تعداد موجود رہتی تھی جن میں اردو شاعری کے قادر الکلام شعرا مثلاً مرزا اسد اللہ خان غالب، استاد ابراہیم ذوق، مومن خان مومن اور داغ کے نام قابل ذکر ہیں۔ بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں محبت، تصوف اور آخری ایام کی کسمپرسی، بے اختیاری اور غریب الوطنی کا تذکرہ نمایاں ہے۔
1857ء کی جنگ آزادی کے وقت بہادر شاہ ظفر بطور آخری تاجدارِ ہند انگریز کے خلاف لڑنے والی تمام قوتوں کے لیے امید کی آخری کرن تھے لیکن حکومتی اختیارات و سائل ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِقبضہ ہونے کی وجہ سے بہادر شاہ ظفر کی رسمی بادشاہت کا اعلان بھی سقوطِ دہلی کی راہ نہ روک سکا اور دہلی پر انگریز فوج نے قبضہ کر لیا۔ دہلی میں خون کا بازار گرم ہوا، ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔ اس قتلِ عام میں بہادر شاہ ظفر کے کئی بیٹے اور پوتے بھی مارے گئے۔ خود بہادر شاہ ظفر شہنشاہ ہمایوں کے مقبرے میں پناہ گزین ہوا لیکن انگریز فوج نے مقبرے کو گھیرے میں لے لیا اور اسے بیوی زینت محل سمیت 1858ء میں ملک بدر کر کے برما کے شہر رنگون بھیج دیا گیاجہاں چار برس بعد 1862ء میں وہ انتقال کر گیا اور اسے رنگون ہی میں دفن کیا گیا۔ یوں ہندوستان سے مغل حکومت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ دہلی سے بہادر شاہ ظفر کی بے پناہ محبت کا ثبوت اس کا یہ شعر ہے:
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

Wednesday, July 15, 2009

US national offers to marry Mughals' descendants, thanks to BBC

It sounds just ‘not normal’. But it is true. A US national has offered to marry a 33-year-old ‘illiterate’ great great grand daughter of the Mughals who ruled Indian subcontinent for more than 300 years. Currently, she is living in penury in a slum in Howrah district of West Bengal in the eastern part of India.

A US national’s sympathetic action came in wake of a report appeared on BBC website followed by an interview of Shivnath Jha by BBC's Mr. Dand Damon from London for World Updates last week.

Mr. Jha and his wife Neena Jha, a teacher, have launched a nation wide movement to rehabilitate the descendants of forgotten heroes of India who had fought for the honour of India against the British Government during its freedom struggle.

“I was impressed by your efforts to support the Indian heroes. You make India and Indians pride. I am an Indian Born USA Citizen Electrical engineer,” Mr. Karamvir (Kevin) Singh in an Email to Mr. Jha said.

He said: “I have a personal question. Please let me know if it will be OK to talk about it. I was reading your article about Bahadur Shah Zafar and his descendents Madhu. I belong to IAS/ IPS family of Punjab. My Father and younger brother-in-law is an IAS officer in Punjab. My other brother-in-law is Inspector General of Police in Amritsar. I am an engineer my self.”

“I will like to marry Madhu if she is still unmarried. I will be honored to marry in Bahadur Shah Zafar’s family. I know it sounds just not normal. But please let me know if it is a possibility,” Mr Singh, a senior engineer transmission (P&C and Telecom) from Manchester said.

Sultana Begum, 56, mother of Madhu, who is living in a slum in at Cowies Ghat’s slum located near Foreshao Road in Howrah district of West Bengal said: “I have received the email forwarded by Mr. Jha, who, along with his wife, are doing their best to provide me bread and shelter through the proceeds of a book “Prime Ministers of India:Bharat Bhagya Vidhata (1947-2009) compiled and edited by the duo.

With tears in her eyes, Sultana Begum, who runs a tea-stall in the same locality for their survival said: “I don’t know the fate of my daughter, but I will certainly look into the proposal.”

Madhu's cause was one of several highlighted by Mr Jha and his wife Neena during the past five years. The duo first hit upon this idea when they tried to raise funds for one of India's greatest classical musicians, Bismillah Khan, earlier in the decade from the proceeds of a book on the life and art of the maestro, a recipient of India’s highest civilian award “Bharat Ratna.”

"We published a pictorial biography of Bismillah Khan and raised some funds. After his death, we institutionalised this movement," the Mr and Mrs Jha said. Last year, they persuaded India's former Railway Minister Lalu Prasad Yadav to help the descendants of Tantia Tope, one of the leaders of the 1857 mutiny which many Indians say was in fact the country's first war of independence.

“Besides financial support for more than Rs. 500,000/- two of his great granddaughters – Pragati and Tripti - were given employment by the Container Corporation of India on Mr Yadav's intervention," Mr Jha said.

In 2009 Mr Jha began promoting the cause of Sultana Begum, the poverty-stricken widow of Muhammad Bedar Bakht - a direct descendant of Bahadur Shah Zafar - who died in 1980. Sultana Begum has five daughters - all are married except for Madhu, her youngest daughter.

"My other daughters and their husbands are poor people, they barely survive, so they cannot help us," she said. "We have been living, but God knows how." The tea shop run by Sultana and her daughter earns the pair a subsistence income.

Mr Jha said that he hoped to provide the pair with more funds by donating money raised from the sale of a book about Indian prime ministers.

Bahadur Shah Zafar was placed on the throne in 1837. He was the last of a line of Mughal emperors who ruled India for three centuries.

In 1857, when Indian soldiers mutinied against their British masters, Bahadur Shah Zafar was declared their commander-in-chief. Mr Zafar was exiled to Rangoon after the British crushed the mutiny in 1858, where he lived for five years until his death at the age of 87.

Wednesday, July 1, 2009

Poverty-stricken descendant of Mughals to get a job

Kolkata, July 01: State-run Coal India Ltd (CIL) has decided to offer employment to Madhu, the poverty-stricken fifth generation descendant of India's last Mughal emperor Bahadur Shah Zafar
Madhu, 33, is the daughter of Sultana Begum and the late Muhammad Bedar Bakht, the great grandson of Bahadur Shah Zafar.
"On behalf of Coal India Ltd, I feel pleasure in offering employment to Madhu. It will be a great tribute to the last Mughal emperor who played a key role during the first war of independence in 1857," Coal India Chairman Partha Bhattacharyya said.
"It is the duty of the country to repay its debt to the family of those who sacrificed their lives for the country's freedom, especially in view of the recently concluded celebration of the 150th anniversary of the 1857 uprising," he said.
The employment letter will be handed over to Madhu by Union Minister for Coal Sriprakash Jaiswal at a function to be held in the city next month.
The move by Coal India came in response to a plea by a Delhi-based scribe couple Neena and Shivnath Jha who had launched a nationwide movement "Andolan Ek Pustak Se" under the aegis of Bismillah: The Beginning Foundation.
The initiative was launched to rehabilitate the descendants of forgotten heroes who fought for the honour of India.
"Muhammad Bedar Bakht died in 1980 leaving his widow at the mercy of God to maintain herself and their children on the bank of river Hooghly in West Bengal's Howrah district. At that time she was in her 30s. Nobody came to her rescue for the past three decades," said Shivnath Jha.
"I don't have words to express my feelings. The job will not only give an inner strength to a woman like me, but also protect me and my family," Madhu said.
It was a sudden turn of fortune for the family languishing in extreme poverty and squalor in the Cowies Ghat slum of Howrah district. Madhu's mother Sultana Begum runs a tea shop in the locality. It is her family's sole source of sustenance.
Bahadur Shah Zafar was placed on the throne in 1837. He was the last of the Mughal emperors who ruled over the Indian subcontinent for some 300 years. The first War of Independence in 1857 started during his reign. The sepoys declared Zafar the symbol of freedom and nominated him as their commander-in-chief. He was exiled to Rangoon (now Yangon) in 1858 where he lived for five years and died in 1862 at the age of 87. ----------- IANS

Sunday, May 24, 2009

ME, MY FATHER AND MUMBAI

It was really a great day for me, my father and Mumbai on May 19 when I, at the age of 13, first visited Mumbai, the business capital of India – the largest democracy in the world. I have reason to smile. By that time, the Congress Party and its allies in the United Progressive Allaince (UPA) had got mandate of the people of the country to reinstate the Government in Raisina Hill in New Delhi.
My parents – Mr. Shivnath Jha and my mother Mrs. Neena Jha – have compiled and edited a first-ever pictorial coffee-table book “Prime Ministers of India:Bharat Bhagya Vidhata” to rehabilitate Smt. Sultana Begum, the great grand daughter of India’s last Mughal Emperor Bahadur Shah Zafar. She is living in a slum in Howrah.
We were in Mumbai to show the ornamental copy of the book to two senior senior bureaucrats and financial experts posted in Mumbai. After going through the book, both the officials, who were in their 60s, blessed my father and me for making such a book, never published before.
My father has no money to publish the book and rehabilitate Smt. Begum from its sale proceeds. We were sitting at their office in Nariman Point. After an hour, one of the officer said to my father “India is celebrating its 60th Republic in 2009. India has more than 113 crore populations and unaccounted number of crorepaties besides crores of educationists, academicians and publishing houses. No one thought about this subject. “Alham-di-lullah”.
Now, with their helps, the book will be published and released in the national capital - where I have been living for the past 13 years – some time next month but before June 15, 2009.
This book is dedicated to Rajiv Gandhi, the great dynamic leader who was killed by LTTE almost 19 years before.
After completing our work, my father took me to Nariman Point and Gateway of India from where I saw my strong future and future of India as it lies in the hands of Youth.

Saturday, May 2, 2009

Impoverished Mughal royal descendant gets a helping hand

Shivnath Jha (extreme right) with The Hinduatan Times Resident Editor Mr. Rajiv Bagchi and Bismillah:The Beginning Foundation's one of the patron Mr. Vijay J Darda, Member of Parliament (Rajya Sabha) and owner of Lokmat Group of newspapers with Sultana Begum, the great grand daughter-in-law of India's last Mughal emperor Bahadur Shah Zafar at a Press Conference at Calcutta Press Club. Mr Jha and his wife have compiled, edited and published a coffee-table book titled "Prime Ministers of India:Bharat Bhagya Vidhata" to rehabilitate Sultana Begum from the sale proceeds of the book.
-----------------------------------------------------------------------------
Kolkata, May 2 (IANS) The great granddaughter-in-law of the last Mughal emperor Bahadur Shah Zafar Sultana Begum, who now lives in a slum in West Bengal, is a little relieved.
She now has the funds to perform get her daughter married, thanks to two journalists.“Andolan Ek Pustak Se” - a movement kicked off by Delhi-based scribe Shivnath Jha and his wife Neena - was aimed at helping the erstwhile royal whose daughter Madhu will get married in June this year.
“We’ve arranged to give her (Sultana Begum) a draft of Rs.200,000 for performing the marriage of her daughter,” Jha told IANS.
Begum said: “I am very happy today to get this fund. It will help me to live my life properly as I don’t have any decent source of income.”
She lives in a 66-sq ft dingy room at a Howrah slum and runs a roadside tea stall there, about 14 km from here.
“Despite serious penury, I was never reduced to being a beggar. I always held my head high in tough financial situations and lived with dignity,” she said, thanking the Bismillah: The Beginning Foundation run by the Jhas.
Sultana’s husband, late Mirza Mohd Bedar Bukht, was a direct descendant of Bahadur Shah Zafar and crown queen Zeenat Mehal.
Jha told reporters here Saturday: “I decided to write a book, ‘Prime Ministers of India: Bharat Bhagya Vidhata’, and decided to rehabilitate the family of Sultana Begam from the proceeds of the book.”
The 534-page hard bound and illustrated book, scheduled to be released after the general elections, will contain details of India’s prime ministers, from Jawaharlal Nehru to Manmohan Singh.
It is the fourth book in the “Andolan Ek Pustak Se” movement, which was launched by the duo in 2007 and aims to publish one book a year to honour and help those who have made India proud.