Monday, July 20, 2009

مُغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری کی پیشکش

مُغل بادشاہ کی پڑپوتی کو نوکری کی پیشکش
مُغل شہنشاہ بہاد رشاہ ظفر کی خدمات کو پورے برصغیر میں سراہا جاتا ہے اور ان خدمات کے صلہ میں بھارتی حکومت نے اُن کی غریب پڑپوتی کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے
احمد نُور
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی پانچویں نسل سے تعلق رکھنے والی اُن کی بہو اور پڑپوتی بھارتی صوبہ مغربی بنگال کی ایک کچی بستی میں غربت کی زندگی بسر کر رہی ہیں اور اپناپیٹ بھرنے کے لیے دونوں ماں بیٹی مل کر چائے کا کھوکھا چلا تی ہیں۔ تاہم بھارتی سرکار نے مغل بادشاہ کے خاندان کو غربت کی زندگی سے نکالنے کے لیے نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سلطانہ بیگم بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے محمد بیدار بخت کی بیوی ہیں جبکہ مادھو بیگم اُن کی بیٹی ہیں۔ محمد بیدار بخت کے والد کا نام جمشید بخت تھا اور دادا کا نام جوان بخت تھا۔ جوان بخت بہادر شاہ ظفر کے بیٹے تھے۔
1857ء میں انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی پہلی جنگ آزادی میں بہادر شاہ ظفر کے کردار کو پورے برصغیر میں آج تک سراہا جاتا ہے اور اُنہیں برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کے خلاف آخری مزاحمت خیال کیا جاتا ہے۔
یاد رہے مغل شہنشاہ کی پڑپوتی کو نوکری ملنے کا سبب بھارتی صحافی شیوناتھ جھاءہیں جنہوں نے بھارتی اخبارات میں اس مسئلہ کو اُجاگر کیا تاکہ مغلیہ خاندان کی مدد ہو سکے اور اس سے قبل اُنہی کی کوشش سے کلاسیکل موسیقار اُستاد بسم اللہ خان کی فلاح و بہبود کے لیے بھارتی حکومت نے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا۔
ہفت روزہ ”ہم شہری“ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے شیو ناتھ جھاءنے بتایا کہ اُنہوں نے اس کام کا بیڑا جنگ آزادی کے اُس بھولے بسرے ہیرو (بہادر شاہ ظفر) کے پسماندگان کی فلاح کے لیے اُٹھایا ہے جس ’ہیرو‘ نے بھارت کے وقار کے لیے انگریزوں کے ساتھ جنگ کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہندوستانی فوج بہادر شاہ ظفر کو ”آزادی کی علامت“ سمجھتی تھی اور اُنہیں فوج کے سربراہ (Commander-in-Chief) کے طور پر چنا گیا تھا۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ بہادر شاہ ظفر کے سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے ”محمد بیدار بخت 1980ء میں بھارتی صوبے مغربی بنگال کے ضلع ہواڑہ میں وفات پا گئے تھے اور سلطانہ بیگم گزشتہ تیس برس سے کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی تھیں اور کوئی بھی اُن کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا تھا۔“ اُن کا کہنا تھا کہ سلطانہ بیگم کے خاوند کی وفات کے وقت اُن کی عمر تیس برس تھی اور اُن کی پانچ بیٹیاں تھیں۔ مغربی بنگال کی حکومت نے سلطانہ بیگم کو رہنے کے لیے اےک فلیٹ دیا لیکن قبضہ گروپ نے اُنہیں ہراساں کیا اور وہ گھر اُن سے چھین لیا، اس کے بعد سلطانہ بیگم مجبوراً اپنی پانچ بیٹےوں کو لے کر مغربی بنگال کے ضلع ہواڑہ چلی آئیں جہاں وہ ہندو اکثریت والی انتہائی غریب بستی کے اےک 8x8 کے کمرے میں رہائش پذیر ہیں اور اس چھوٹے سے کمرے میں اُنہوں نے بہادر شاہ ظفر کی تصویر آویزاں کر رکھی ہے۔ انڈین صحافی کا کہنا تھا کہ اُنہیں شروع میں غیر مصدقہ ذرائع سے خبر ملی تھی کہ سلطانہ بیگم دریا کنارے اےک غریب بستی (slum) میں رہائش پذیر ہیں اور وہ اس بستی سے چودہ کلومیٹر دور چائے کا کھوکھا چلاتی ہیں۔ لیکن جب اُنہوں نے خود جا کر دیکھا تو اس بات کو سچ پایا کہ آخری مغل بادشاہ کے خاندان کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور اُن کی گزر بسر کا واحد ذریعہ چائے کا ایک سٹال ہی ہے۔
سلطانہ بیگم کی پانچ بیٹیوںمیں سے چار شادی شدہ ہیں جبکہ33 سالہ مادھو بیگم ابھی غیر شادی شدہ ہے اور وہ چھ جماعتیں پاس ہے۔ شیو ناتھ کے بقول سلطانہ بیگم کا کہنا ہے کہ اُن کی باقی بیٹیاں بھی غربت کی زندگی گزار رہی ہیں ۔ دوبیٹیوں کے خاوندکوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں اور دو کے شوہر ٹیکسی چلاتے ہیں۔
ہندوستانی سرکاری ادارے کول انڈیا لمیٹڈ(سی آئی ایل)نے بہادر شاہ ظفر کی غریب پڑپوتی کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے انڈیا کول اگلے ماہ اےک خصوصی تقریب منعقد کروا رہی ہے جس میں وزیر کوئلہ شری پرکاش جیسوال باقاعدہ نوکری کا لیٹربہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی کے حوالے کریں گے۔ یکم جولائی کو نوکری دینے کا اعلان کرتے ہوئے کول انڈیا کے چیئرمین پرتھا بھٹاچاریا نے کہا ”کول انڈیا کی طرف سے مادھو بیگم کو نوکری کی پیشکش کرتے ہوئے اُنہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ سب آخری مغل بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جنہوں نے پہلی جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے ہم ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کے اہل خانہ کی خدمت کریں۔“
بھارتی ٹیلیوژن ”زی نیوز“ کے مطابق مادھو بیگم نے کہا کہ ”میرے پاس خوشی کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ نوکری نہ صرف مجھ جیسی عورت کو آگے بڑھنے کی قوت دے گی بلکہ اس سے میرے خاندان کا بھی بھلا ہو گا۔“ بھارت کے اےک صنعتکار مادھو سدھن اگروال نے بھی مادھو بیگم کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
مغل خاندان کا آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر 1775ء میں دہلی میں پیدا ہوا۔ وہ اکبر شاہ کا بیٹا تھا۔ اس کی ماں کا نام لال بائی تھا جو کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی۔ بہادر شاہ ظفر کی چار بیویوں میں سے بائیس بیٹے اور بتیس بیٹیاں تھیں۔ بہادر شاہ ظفر نے جب اپنی عمر کی چھٹی دہائی میں قدم رکھا تو اپنے باپ کی موت کے نتیجے میں 1837ءمیں تخت نشین ہوا۔ بہادر شاہ ظفر مغل خاندان، جو کہ گزشتہ تین صدیوں سے حکومت کر رہا تھا، کا آخری اور اپنے بزرگوں کی طرح ایک کمزور اور بے اختیار بادشاہ ثابت ہوا۔ اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے شعر میں کچھ یوں کیا ہے:
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
یہ وہ دور تھا کہ جب انگریز سرکار مضبوط ہو رہی تھی اور مغلوں کی حکومت روبہ زوال تھی۔ یہ مغلوں کی حکومت کا وہ پرآشوب زمانہ تھا کہ جب ان کے اختیارات اور مراعات تقریباً ختم ہو چکی تھیں اور بات یہاں تک آن پہنچی تھی کہ خود بادشاہ صرف لال قلعے کی چاردیواری تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی زندگی کا انحصار انگریز سرکار کی طرف سے مقرر کیے گئے وظیفے پر تھا کیونکہ اختیارات کا منبع اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی بن چکی تھی۔
بہادر شاہ ظفر کا دور حکومت اردو شاعری کا تابناک دور تھا کیونکہ وہ خود نہ صرف ایک اعلیٰ پائے کا شاعر تھا بلکہ ایک عمدہ خطاط بھی تھا۔ شاعری اس کو ورثے میں اپنے باپ اور دادا سے ملی تھی جس کا سب سے بڑا ثبوت اس کے چار دیوان ہیں۔اس کے دربار میں شاعروں کی ایک کثیر تعداد موجود رہتی تھی جن میں اردو شاعری کے قادر الکلام شعرا مثلاً مرزا اسد اللہ خان غالب، استاد ابراہیم ذوق، مومن خان مومن اور داغ کے نام قابل ذکر ہیں۔ بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں محبت، تصوف اور آخری ایام کی کسمپرسی، بے اختیاری اور غریب الوطنی کا تذکرہ نمایاں ہے۔
1857ء کی جنگ آزادی کے وقت بہادر شاہ ظفر بطور آخری تاجدارِ ہند انگریز کے خلاف لڑنے والی تمام قوتوں کے لیے امید کی آخری کرن تھے لیکن حکومتی اختیارات و سائل ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِقبضہ ہونے کی وجہ سے بہادر شاہ ظفر کی رسمی بادشاہت کا اعلان بھی سقوطِ دہلی کی راہ نہ روک سکا اور دہلی پر انگریز فوج نے قبضہ کر لیا۔ دہلی میں خون کا بازار گرم ہوا، ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔ اس قتلِ عام میں بہادر شاہ ظفر کے کئی بیٹے اور پوتے بھی مارے گئے۔ خود بہادر شاہ ظفر شہنشاہ ہمایوں کے مقبرے میں پناہ گزین ہوا لیکن انگریز فوج نے مقبرے کو گھیرے میں لے لیا اور اسے بیوی زینت محل سمیت 1858ء میں ملک بدر کر کے برما کے شہر رنگون بھیج دیا گیاجہاں چار برس بعد 1862ء میں وہ انتقال کر گیا اور اسے رنگون ہی میں دفن کیا گیا۔ یوں ہندوستان سے مغل حکومت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ دہلی سے بہادر شاہ ظفر کی بے پناہ محبت کا ثبوت اس کا یہ شعر ہے:
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

No comments: